!!! اقبال کا پاکستان

1.jpgعلامہ اقبال جدید دورکےصوفی شاعر تھے انہوں نےاپنی شاعری کےذریعے امت مسلمہ میں انقلابی روح بیدارکرنے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے  ان کی شاعری میں تصوف اوراحیائے اسلام کارنگ نمایاں تھا. اقبال نے ہمیشہ وطن پرستی اور ملک سے محبّت کو فروغ دینے کی بات کی. اقبال امت مسلمہ کو ایک دیکھنا چاہتے تھے. اقبال نے برصغیر پاک ہند کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا خواب دیکھا تھا کہ جس میں مسلمان اپنی مرضی سے اپنے مذہب کے مطابق آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزر سکیں مگر آج ہم دیکھیں توہمیں کہیں اقبال کا پاکستان نظر نہیں اتا وہ پاکستان نظر نہیں اتا کہ جس میں مسلمان ایک ہو کر رهتے ہوں. نہ ہی اس ملک کے نوجوان اور حکمران ایسے ہیں کہ جو اپنی مٹی سے فائدہ اٹھانا جانتے ہوں ہماری عوام اہل مغرب سے اس حد تک متاثر ہے کہ اس نے اپنے اخلاق و اقدار یکسر فراموش کر دیے  ہیں

جیسا کہ اقبال نے فرمایا تھا کہ

ﺍﭨﮭﺎ ﻧﮧ ﺷﯿﺸﮧ ﮔﺮﺍﻥِ ﻓﺮﻧﮓ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﮞ

ﺳﻔﺎﻝِ ﮨﻨﺪ ﺳﮯ ﻣﯿﻨﺎ ﺟﺎﻡ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ

مگر ہمارے نوجوانو نے یوم اقبال کی اصل روح کو بھلا دیا اس دن کو صرف اور صرف چھٹی کے دن کے طور پے منایا جاتا ہے. مگرکبھی کسی نے بھی اقبال کی شاعری  میں چھپے اصل میسج کو سمجنے کی کوشش ہی نہیں کی. اقبال کے شاہین اپنی خودی کو فراموش کر چکے ہیں . اقبال نے اپنی شاعری سے پاک و ہند کے لوگوں کے دلوں کو گرما دیا تھا.نوجوانوں کو ترقی کی راہ دکھائی تھی. اب وقت آن پہنچا ھے کہ ھم انکی انقلابی شاعری سے استفادہ کریں.اور اپنے اندر خودی پیدا کریں.جو کہ ہماری قوم میں ملی غیرت پیدا کر سکے. ۔اقبال کی شاعری ہمارے لیے مشعل راہ ہے ۔ اگر اجج ہماری قوم اقبال ڈے کو چھٹی منانے سے زیادہ ان کی سوچ و فکر کو قوم اگر سمجھ کر اپنا لے تو  نہ صرف ہر کبوتر شاہین بن جائے گا بلکہ  ملک و قوم کا ایک ذمہ دار رکن بن جائے گا.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s